Home / اردو شاعری / اتباف ابرک / کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں | اتباف ابرک

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں | اتباف ابرک

غزل

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں
ساتھ ہوں منتظر تمہارا ہوں

مجھ سے پوچھا مرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں

ہو سکے تم نہ میرے پل کے لئے
اور میں عمر بھر تمہارا ہوں

خود جو ٹوٹا تجھے بنانے میں
میں وہی کوزہ گر تمہارا ہوں

سایہ میرا تو میرے بس میں نہیں
پر ہے وعدہ شجر تمہارا ہوں

ہم کو منظور ہر قیامت ہے
وہ جو کہہ دے اگر تمہارا ہوں

روک رکھا ہے ایک صحرا نے
ضد کرے میں ہی گھر تمہارا ہوں

تم تو دنیا کے ہوگئے ابرک
اور میں بے خبر تمہارا ہوں

اتباف ابرک

Check Also

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام اور انہاں دے نام

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام  نعت گوئی دا آغاز حضور اکرم صلی اللہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: معذرت سئیں نقل دی اجازت کائینی