Home / اردو شاعری / چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو | اتباف ابرک

چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو | اتباف ابرک

غزل 

چاہے اک پل کا سہی ساتھ گوارا کر لو
پھر نہیں غم کوئی گر ہم سے کنارا کر لو

میرا حصہ ہے محبت تو ادا نقد کرو
اور نفرت ہے تو نفرت کو ادھارا کر لو

کون کہتا ہے کہ لازم اسے تعبیر بنا
بس مرے خواب کو آنکھوں میں گوارا کر لو

گر نہیں اور وجہ کوئی شناسائی کی
اک محبت ہے وہی پھر سے دوبارا کر لو

پھر کہاں اور کسی کا وہ کبھی ہو پایا
جس پہ اک بار یہاں تم جو اجارا کر لو

مانا مشکل ہے مرا تم سے بچھڑ کر جینا
ساتھ ہوں میں تو ترے تم تو گزارا کر لو

دم نکل جائے گا یونہی مرا ہنستے ہنستے
اک نظر میری طرف ہنس کے اشارا کر لو

ہم نہیں وہ کہ جو لے جائیں گے منزل کیطرف
یہی بہتر ہے کوئی اور ستارا کر لو

ایک ہی شخص کی چاہت میں بھلا کیا مرنا
بے وفائی کو ہی جینے کا سہارا کر لو

جب کبھی باندھا ہے ابرک نے یہاں رختِ سفر
دل مچلتا ہے ذرا اور نظارہ کر لو

اتباف ابرک

Check Also

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام اور انہاں دے نام

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام  نعت گوئی دا آغاز حضور اکرم صلی اللہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: معذرت سئیں نقل دی اجازت کائینی