Home / اردو شاعری / کبھی رات کو، کبھی دن ڈھلے اسے دیکھتے غزل | ڈاکٹر شکیل پتافی

کبھی رات کو، کبھی دن ڈھلے اسے دیکھتے غزل | ڈاکٹر شکیل پتافی

غزل

کبھی رات کو، کبھی دن ڈھلے اسے دیکھتے 
کبھی ایسا ہو جسے سوچتے اسے دیکھتے

مجھےاپنی آنکھوں کےاندھے ہونےکا غم نہیں
مرے ساتھ والے بھی تھک گئے، اسے دیکھتے

کسی اجنبی کی محبتیں ہمیں کھا گئیں
سو، اے کاش ہم اسے جانتے ، اسے دیکھتے

وہ مہک لٹاتا ہُوا، ہوَا پہ سوار تھا
مرے شہر والے کدھر گئے ، اسے دیکھتے

یہ ہزاروں عکس نظر میں کیسے سما گئے 
سرِ آسماں اگر آئینے، اسے دیکھتے

مرے گاوُں والوں کے خواب کوئی چرا گیا
مرے گاوُں والے بھی جاگتے، اسے دیکھتے

وہ جو منزلوں کے قریب آ کے بچھڑ گیا 
بھلا کس طرح سے تھکے  ہوۓ اسے دیکھتے

کبھی چاند میں وہ ستارہ بن کے چمک اٹھے
کبھی ہم یہاں بڑی دور سے، اسے دیکھتے

ڈاکٹر شکیل پتافی

 

Check Also

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام اور انہاں دے نام

غیر مسلم شعرا کرام دا نعتیہ کلام  نعت گوئی دا آغاز حضور اکرم صلی اللہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: معذرت سئیں نقل دی اجازت کائینی