Home / اردو شاعری / آخر یہ لڑکی اپنے حُسن سے کیوں عاری ہے

آخر یہ لڑکی اپنے حُسن سے کیوں عاری ہے

غزل

 یہ لڑکی اپنے  ہی حُسن سے کیوں عاری ہے
عین ممکن ہے کسی مصلحت کی طرف داری ہے

میں بھی سچ میں ایک چہرے سے بہت متاثر ہوں
مجھ پر بھی ایک پہلو کا لمس طاری ہے


شاعری بیتے ہوئے لمحوں کا فسانہ ہے کوئی
ابھی میں زندہ ہوں تو گویا غزل جاری ہے


اے مسافر کچھ اپنے عقیدے کی وضاحت کر
بیٹھنا آساں ہے تو چلنے میں کیا دُشواری ہے


زندگی ریت کے گھروندے میں مجھے لائی ہے
بند کمرہ ہے ، نہ کھِڑکی ہے ، نہ الماری ہے


رات کے تاریک سناٹوں میں کیا دیکھتی ہیں
جلتی بُجھتی ہوئی آنکھوں میں بھی بیداری ہے


ذیشان بتاؤ تو یہ معلوم سے لاعلمی کا سفر
کوئی ڈرامہ ہے ، اداکاری ہے ، یا بیماری ہے
محمد ذیشان اقبال قیصرانی

Check Also

سرائیکی شاعر ذیش قیصرانی دا انٹر ویو محسن عباس نال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔