Home / ادب / ہِک پیغام اقبال دے شاہیناں دے نانویں

ہِک پیغام اقبال دے شاہیناں دے نانویں

علامہ محمد اقبال

علامہ محمد اقبال دے والدِ محترم دا ناں شیخ نور محمد اور والدہ محترمہ دا ناں اِمام بی بی ہائی۔ 

آپ نو نومبر 1877 کوں سیالکوٹ اچ پیدا تھئے اور 21 اپریل 1938 کوں لاہور اچ وفات پاتی ۔

آپ نے وکالت دے نال مسلمانِ ہند کوں جگانڑ کیتے شاعری کوں پسند کیتا ۔اور آپ کوں شاعرِ مشرق ہونڑ دا اعزاز حاصل ہے ۔

مگر بہوں سارے اشعار اینجھے ہن جیڑے علامہ اقبال دے نئیں مگر لوگ اج وی انہاں کوں علامہ اقبال نال منسوب کریندین ۔

پہلا گروہ

پہلی قسم اینجھے اشعار دی ہے جیڑے معیاری تاں ہِن ،گر کہیں بئے شاعر دے شعر ہن۔ ساڈے لوگ غلطی نال اقبال دے ناں

نال منسوب کر یندن۔ اینجھے اشعار اِچ عموماََ عقاب، قوم، اور خودی جھئیں الفاظ دے استعمال نال قاری کو اِیہو لگدے کہ شعر اقبال

دا ہی ہے۔

مثال دے طور تیں۔

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

سید صادق حسین

اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے

اک ضرب یَدّ اللہ اک سجدہِ شبیری

وقار انبالوی

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

– ظفر علی خان

ڈوجھا گروہِ

ڈوجھے گروہ دے اندر او اشعار ہِن جیڑے وزن اِچ برابر ہِن مگر الفاظ دا چُناؤ اُنہاں دا دا وزنی کائینی ۔ 

مثلاََ ۔

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی

یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا

سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی

حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا

نامعلوم

تِری رحمتوں پہ ہے منحصر میرے ہر عمل کی قبولیت

نہ مجھے سلیقہِ التجا، نہ مجھے شعورِ نماز ہے

 نامعلوم

سجدوں کے عوض فردوس مِلے، یہ بات مجھے منظور نہیں

بے لوث عبادت کرتا ہوں، بندہ ہُوں تِرا، مزدور نہیں

نامعلوم

تریجھا گروہ 

تریجھے گروہ دے اندر او اشعار جیڑھے لوگ ایویں اپنڑی گالھ کوں قیمتی اور وزنی بنڑانونڑ کیتے من گھڑت پیدا کریندن ۔ 

مثلاً ۔

اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ

املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ

شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

نامعلوم

چوتھا گروہ

بالکل ایویں بہوں سارے مذہب اور مسلک آلیں کئی دفعہ اقبال کوں اپنڑاں حمائیتی ظاہر کرنڑ کیتے کئی شعر بنڑائن جبکہ اقبال دا انہاں

نال کوئی تعلق کائینی اور اے افکارِ اقبالؒ نال ظلم ہے ۔

مثلاََ

وہ روئیں جو منکر ہیں شہادتِ حسین کے

ہم زندہ وجاوید کا ماتم نہیں کرتے

 نامعلوم

بیاں سِرِ شہادت کی اگر تفسیر ہو جائے

مسلمانوں کا کعبہ روضہء شبیر ہو جائے

نامعلوم

نہ عشقِ حُسین، نہ ذوقِ شہادت

غافل سمجھ بیٹھا ہے ماتم کو عبادت

نامعلوم

پنجواں گروہ

پنجواں گِروہ انہاں اشعاراں دا جنہاں نال باقائدہ اِقبال یا اے اقبال استعمال کیتا گئے مگر او اشعار اقبال دے باالکل نئیں اور انہاں دا

وزن اور الفاظی وی درست کائینی ۔ انہاں کوں شعر دا درجہ وی شاید نہ ڈِتا ونجے مگر لوگیں اِقبال نال منسوب کیتا ہوئے۔

مثلاََ

کیوں منتیں مانگتا ہے اوروں کے دربار سے اقبال

وہ کون سا کام ہے جو ہوتا نہیں تیرے پروردگار سے؟

 

تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کر دیں اقبال

تُو جُھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے!

 

دل پاک نہیں ہے تو پاک ہو سکتا نہیں انساں

ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت

 

مسجد خدا کا گھر ہے، پینے کی جگہ نہیں

کافر کے دل میں جا، وہاں خدا نہیں

 

کرتے ہیں لوگ مال جمع کس لئے یہاں اقبال

سِلتا ہے آدمی کا کفن جیب کے بغیر

 

میرے بچپن کے دِن بھی کیا خوب تھے اقبال

بے نمازی بھی تھا، بے گناہ بھی

 

وہ سو رہا ہے تو اُسے سونے دو اقبال

ہو سکتا ہے غلامی کی نیند میں وہ خواب آزادی کے دیکھ رہا ہو

 

گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے

ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے

یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے

یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے

امید ہے تساں ایں پوسٹ کیں مستفید تھئے ہوسو ۔ علامہ محمد اقبالؒ نال منسوب غلط اشعار دی روک تھام اِچ اپنڑا ہتھ رلیسو اور ایں

پیغام کوں بنیاں لوگاں تک ورتیسو۔۔

سرائیکی ادبی معلومات

Check Also

سرائیکی افسانہ "ڈِڈھ دا دوزک” اکھ دی بُکھ وچوں | طلعت نقی

اوتری ، نامُراد ، لوبھِنڑ چور رَن ، تیکوں شرم نئی آئی ، ایویں کریندییں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: معذرت سئیں نقل دی اجازت کائینی