Home / اردو شاعری / قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے
قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

آ دیکھ تیرے نام سے منصوب ہیں سارے

بس اس لئے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے،
خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے

اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے،
حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے

شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک،
ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے

سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسنؔ
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے!!!

محسن نقوی

Check Also

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کسی بھی جان موسم میں۔۔۔ رات کو میں سوتی ہوں۔۔ …