Home / اردو شاعری / آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر
آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

وہ مرے کاسے میں یادیں چھوڑ کر یوں چل دیا

جس طرح الفاظ جاتے ہوں معانی چھوڑ کر

تم مرے دل سے گئے ہو تو نگاہوں سے بھی جاؤ

پھر وہاں ٹھہرا نہیں کرتے نشانی چھوڑ کر

اب سنا ہے عام شہری کی طرح پھرتے ہو تم

کیا ملا ہے میرے دل کی حکمرانی چھوڑ کر

بس ابھی طوفان غم کا تذکرہ آیا ہی تھا

سب گھروں کو چل دئیے میری کہانی چھوڑ کر

اس طرح میرے قبیلے میں کبھی ہوتا نہیں

کیسے جاؤں تیرے غم کی میزبانی چھوڑ کر

یہ کلام اللہ کب ہے جو سدا باقی رہے

دار فانی سے چلے ہیں نقش فانی چھوڑ کر

Check Also

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کسی بھی جان موسم میں۔۔۔ رات کو میں سوتی ہوں۔۔ …