Home / اردو شاعری / تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو

خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی

تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو

طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو

نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو

چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو

بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو

جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو

خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو

اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو

کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو

جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو

جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو

سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو

خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب اپنا
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو

تم اک گورکھ دھندہ ہو ♡

Check Also

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کسی بھی جان موسم میں۔۔۔ رات کو میں سوتی ہوں۔۔ …