Home / اردو شاعری / جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے
جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

پہنچے گی جو نہ اس تک، ہم اُس خبر میں ہوں گے

تھک کر گریں گے جس دَم، بانہوں میں تیری آ کر
اُس دَم بھی کون جانے، ہم کس سفر میں ہوں گے

اے جانِ عہد و پیماں، ہم گھر بسائیں گے، ہاں
تُو اپنے گھر میں ہو گا، ہم اپنے گھر میں ہوں گے

میں لے کے دل کے رشتے، گھر سے نکل چکا ہوں
دیوار و دَر کے رشتے، دیوار و دَر میں ہوں گے

تجھ عکس کے سوا بھی، اے حُسن وقتِ رُخصت
کچھ اور عکس بھی تو، اس چشمِ تر میں ہوں گے

ایسے سراب تھے وہ، ایسے تھے کچھ کہ، اب بھی
میں آنکھ بند کر لوں، تب بھی نظر میں ہوں گے

اس کے نقوشِ پا کو، راہوں میں ڈھونڈنا کیا
جو اس کے زیر پا تھے وہ میرے سر میں ہوں گے

وہ بیشتر ہیں، جن کو، کل کا خیال کم ہے
تُو رُک سکے تو ہم بھی ان بیشتر میں ہوں گے

آنگن سے وہ جو پچھلے دالان تک بسے تھے
جانے وہ میرے سائے اب کِس کھنڈر میں ہوں گے

جون ایلیا

Check Also

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے

کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کسی بھی جان موسم میں۔۔۔ رات کو میں سوتی ہوں۔۔ …